کوائف : پروین شیر

کوائف : پروین شیر

عظیم آباد کے ایک علمی گھرانے میں پروین شیر پیدا ہوئیں ۔ بہت کم سنی میں کنیڈا آ کر یونیورسٹی آف مینی ٹوبا ،کنیڈا سے فائین آرٹس میں اور یونیورسٹی آف ونی پیگ ،کنیڈا سے نفسیات میں تعلیم حاصل کی۔ والد۔۔۔سید فضل اللہ قادری معروف مفکر اوردانشورتھے۔مسلم لیگ کے ممتاز قائدین میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ ان کے کتب خانے میں ادب اور فلسفے کی بے شمار کتابیں تھیں جو ان کی وفات کے بعد خدا بخش لائبریری کو عطیے کے طور پر نذر کر دی گئیں۔ والدہ۔۔۔شکیلہ قادری ادبی ذوق رکھتی تھیں۔سب سے بڑے بھائی۔۔۔پروفیسر ڈاکٹر سید شمس اضحی(ادبی نام عارف عظیم آبادی)سائنس داں،اُردو،انگریزی کے شاعر اور مصنف ، جنھیں حکومت پاکستان نے بابائے فارمیسی کا خطاب عطا کیا تھا۔ خسر۔۔۔۔سید احسن شیر کے علامہ اقبال سے گہرے مراسم تھے۔ خالو۔۔۔پروفیسر اختر اورینوی،مشہور ناقد اور افسانہ نگار، نانا۔۔۔ڈاکٹر محمد محسن،عالمی شہرت یافتہ ماہر نفسیات اور افسانہ نگار تھے۔شریک حیات۔۔۔ وارث شیر،پروفیسر(ریاضی)جو سیاست اور ریاضی کی ۸ کتابوں کے مصنف بھی تھے۔

شاعری
(نظمیں اور غزلیں) ہندوستان، پاکستان اوریورپ کے معتبر ادبی رسالوں میں تخلیقات شائع ہوتی رہی ہیں جن میں فنون،مونتاج سیپ،صریر،ذہن جدید،شعروحکمت ،نیا سفر،نیا ورق،ایوا ن اُردو، چہار سو،شاعر،روشنائی،آج کل، الاقربا، نیا ادب، ارتقاء ، جوش بانی ،مباحثہ،تحریر نو،نئی کتاب، کتاب نما ،الحمرا، تخلیق ، انشاء، امروز، انتساب، اسباق ، سب رس،تریاق، پرواز ، جدید ادب،عکاس استفسار،رہروان ادب، قلم ،تفہیم،اثبات ا ور دیگر شامل ہیں۔

نثری تخلیقات۔۔۔
افسانے،مقالے،مضامین،سفر نامے معتبر ادبی رسالوں میں شائع ہوتے رہے ہیں۔

تصانیف
(۱) دو لسانی(انگریزی ۔ اُردو)، کوفی ٹیبل، شاعری اور مصوری کا مجموعہـ‘‘کرچیاں’’ Fragments ۔پہلاپاکستانی ایڈیشن، ۲۰۰۵۔دوسرا ہندوستانی ایڈیشن، ۲۰۰۸۔
(۲)دو لسانی(انگریزی۔اُردو)، کوفی ٹیبل،شاعری اور مصوری کا مجموعہ ‘‘ نہال دل پر سحاب جیسے’’Raindrops on Parched Land۔۲۰۱۰۔(اُردو ادب کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا ،یک موضوعی مجموعہ جو ماں سے متعلق ہے)
یہ دونوں شعری مجموعے بہ نام ‘‘جیون کے رنگ’’ ہندی میں ۲۰۱۰ میں شائع ہوئے۔دونوں نے عالمی ایوارڈ حاصل کیا۔
(۳) دو لسانی(انگریزی۔اُردو)، نظم اور مصوری سے آراستہ ،تخلیقی سفر نامہ، پیرو، جنوبی افریقہ اور سوازی لینڈ کے حوالے سے ‘‘چند سیپیاں سمندروں سے’’ Pearls from the Ocean ۲۰۱۴، جو کنیڈا کی معتبر کتابوں کی دوکان ،مکنالی روبنسن میں بیسٹ سیلر کی فہرست میں رہا۔یہ کتابیں برطانیہ برٹش لایبریری،جرمنی ہائیڈل برگ لایبریری،روس موسکو لایبریری اور کنیڈا و امریکہ کی مختلف یونیورسٹیز،کتب خانے،اسکول،کالج اور آرٹ گیلری نے حاصل کیں۔
(۴) دو لسانی (اردو ۔انگریزی) نظموں اور مصوری کا مجموعہ ‘‘بے کرانیاں’’ Boundless .۲۰۱۸۔
مصوری۔۔۔۔ آئیل، پنسل، ایکری لک۔
نمایشیں۔۔۔۔۔۔۔۔کنیڈا، امریکہ، فرانس، انگلینڈ، جرمنی ، چین اور انڈیا۔ ۸ سولو اور ۲۱ گروپ جیوریڈ شوز ۔بین الاقوامی طور پر نجی اور دیگر اداروں میں مصور ی کےollections C موجود ہیں۔

اعزازات
سب تصانیف پر صف اول کے نقادوں کے تبصرے شائع ہوئے۔
۔۔۔۔رسالوں میں پروین شیر نمبر اور گو شے: شعرو حکمت،مباحثہ،نئی کتاب، روشنائی، چہار سو،ارتکاز،انتساب،تحریک ادب، لمس کی خوشبو، دنیائے ادب،شاعر،سلسلہ، اسباق پرواز وغیرہ ،کئی انگریزی رسالوں میں اور کنیڈا کے مختلف میڈیا پر انٹرویوز۔
۔۔۔۔ نقاد،شاعر ،ناول نگار،صابق صدر اُردو،دہلی یونیورسٹی،پروفیسر عتیق اللہ نے ایک توجہ انگیز دستاویز، ‘‘ پروین شیر۔ عہد نا تمام کی شاعرہ’’ ۶۰۰ صفحات کی، ۲۰۱۱ میں مرتب کی جس میں ۵۰ اُردو اور انگریزی کے معروف نقادوں اور فنکاروں کے مضامین پروین شیر کی تصانیف پر موجود ہیں۔
اسی نہج پر ۲۰۲۲ میں پروین شیر کے فکر و فن پر تحریر کردہ مضامین کا دوسرا انتخاب ۴۵۰ صفحات کا ‘‘نکتہ شناسان سخن اور پروین شیر’’ کے عنوان سے پروفیسر عتیق اللہ نے مرتب کیا۔
۔۔۔۔پروفیسر خالد محمود، ( ادیب، صدر اُردو،جامعہ ملیہ ، دہلی)نے دونوں شعری مجموعوں (کرچیاں اور نہال دل پر سحاب جیسے)کا انتخاب بہ نام ـ‘‘چہرۂ گُل دھواں دھواں سا ہیـ’’۲۰۱۲ میں مرتب کیا۔
۔۔۔۔ڈاکٹر سیفی سرونجی، شاعر اور نقاد نے اپنی کتاب شایع کی ‘‘پروین شیر کے تخلیقی ہفت رنگ’’
۔۔۔۔نذیر فتح پوری ،شاعر اورادیب نے کتاب شایع کیـ‘‘شاعرہ مصورہ،پروین شیر’’
۔۔۔۔مشہور ادیب اور مترجم، ڈاکٹر بیدار بخت نے شعری مجموعوں کا انتخاب انگریزی میں Echoing Silence ۲۰۲۳میں مرتب کیا۔
۔۔۔۔روس کی مشہور روسی اور اردو کی ادیب پروفیسر ڈاکٹر لڈمیلا وسیلیوانے روسی زبان میں چنندہ اردوشاعروں پر کتاب شائع کی جس میں ایک بابـ۔۔۔پروین شیر کی شاعری ۔۔ہے اور پروین شیر کی نظموں کے ترجمے روسی زبان میں ہیں۔
۔۔۔۔ادبی خدمات پر جواہر لعل نہرو یونیورسٹی دہلی میں ایم فل کی سطح کے تحقیقی و تنقیدی مقالات پر ڈگری مل چکی ہے اور کچھ زیر تکمیل ہیں۔
۔۔۔۔مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد میں اکیسویں صدی کی خواتین کے سفر ناموں پر پی ۔ایچ ۔ڈی ہو رہی ہے اور پروین شیر کے جنوبی افریقہ، پیرو اور سواذی لینڈ کے سفرناموں کا مجموعہ بھی شامل ہے۔
۔۔۔۔پاکستان کی سیالکوٹ یونیورسٹی میں شاعری پر ایم فل ہو رہی ہے۔
۔۔۔۔سفر نامہء جنوبی افریقہ، ہندوستان کے صوبہ مہاراشٹر کے اسکولوں کی دسویں جماعت کے نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔
۔۔۔۔کنیڈین فلم انڈسٹری کے لیے مصوری چنی گئی جو مشہور ادیبہ مارگرٹ ایٹوڈ کی کہانیوں پر مبنی ہے۔
۔۔۔۔۱۱۰ سال قدیم اور معیاری، کنیڈا کی صوبائی آرٹ سوسائیٹی میں جیوری پینل کی رکن کا عہدہ حاصل ہوچکا ہے۔
۔۔۔۔کنیڈین اسکول آف آرٹس کے دعوت نامے اور مصوری کے متعلق تقریریں۔
سیاحت ۔۔۔۔فرانس،جرمنی، بلجیم، ہالینڈ، موراکو، اٹلی، ترکی، اسپین، پرتگال، یونان، چین، سویٹزر لینڈ، برطانیہ،
یونائی ٹیڈ عرب امی ریٹس، ساؤتھ افریقہ، سوازی لینڈ، پیرو(لیٹن امریکہ)، بحرین، نیپال، بنگلہ دیش، پاکستان، ہندوستان، امریکہ، کنیڈا، کیوبا، میکسیکو، گوٹے مالا، بے لیز، روس، کولمبیا اور چلی وغیرہ ۔
انعامات۔۔۔۔۔ ۔‘‘ کرچیاں ’’۔۔۔پہلا ایڈیشن ۔ بزم شعر و ادب ، برطانیہ ، منفرد تخلیق کا ایوارڈ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘کرچیاں ’’۔۔۔ دو سر ا ایڈیشن ۔ ادبی کلچر بنارس ،ہندوستان، ۲۰۰۸ کی بہترین کتاب ، انٹرنیشنل ایوارڈ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘نہال دل پر سحاب جیسے ’’۔۔۔۔ احمد ادایا اردو انٹر نیشنل کا سب سے معتبر،پا نچ ہزار ڈالر نقد ایوارڈ ، ۲۰۱۰ ، بہترین شعری تخلیق ۔ لاس انجیلس، کیلی فورنیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ساحر اکیڈمی ، ادیب انٹر نیشنل ایوارڈ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حکومت بہار ، ہندستان ، اردو ادب کا ایوارڈ ۲۰۱۸ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مصوری میں۔۔۔۔ آٹھ امتیازی انعامات۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آرٹ ،کلچر،اور تہذیبی میراث میں غیر معمولی خدمات کے اعتراف میںWoman of Distinction Award YWCA, Wpg, Canada کے لیے نامزد گی۔
ملازمت۔۔۔فلم کلاسیفی کیشن،گورنمنٹ آف مینی ٹوبا، کنیڈا۔
دوسرا سفر نامہ اور چوتھا شعری مجموعہ مصوری کے ساتھ زیر طبع ہے ۔ مضامین کا مجموعہ اشاعت کے لیے تیار ہے۔